ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فضائی حدود میں ایک ایف 18 سمیت دو امریکی جنگی طیاروں کو مار گرایا گیا ہے، تاہم امریکی فوج نے اس دعوے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔
روسی میڈیا کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے ان طیاروں کو نشانہ بنانے کی ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے، جو سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی کامیابی سے انجام دی گئی۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے کسی بھی امریکی طیارے کو نشانہ بنانے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ امریکی حکام کے مطابق اس نوعیت کے دعوے معلوماتی جنگ کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے عوامی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس سے قبل بھی ایران کی جانب سے ایک جدید امریکی لڑاکا طیارے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا، جبکہ بعض غیر ملکی میڈیا میں امریکا کے متعدد طیاروں کو نقصان پہنچنے کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
ادھر ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کی سرزمین پر حملے جاری رہے تو آبنائے باب المندب میں نیا محاذ کھولا جا سکتا ہے، جو ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے اور عالمی تجارت کے لیے خاصی اہمیت رکھتی ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں جنگ صرف میدان تک محدود نہیں رہی بلکہ معلوماتی محاذ پر بھی شدت اختیار کر چکی ہے، جہاں دونوں فریق اپنی اپنی کامیابیوں کے دعوے کر رہے ہیں، جس کے باعث حقائق کی تصدیق مزید مشکل ہو گئی ہے۔

