ایران نے امریکی حکومت کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی تجاویز کو مسترد کر دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں جنگ بندی ممکن نہیں۔ ایرانی حکام نے کہا کہ ایران صدر ٹرمپ یا کسی دیگر فریق کو یہ اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ جنگ کے خاتمے کا وقت تعین کرے۔ ایران نے علاقائی ثالث کے ذریعے امریکی حکومت کو اپنا موقف پہنچا دیا ہے اور اعلان کیا کہ ایرانی دفاعی کارروائیاں ایران کی شرائط مکمل ہونے تک جاری رہیں گی۔
ایرانی حکام کے مطابق جنگ بندی کا فیصلہ صرف ایران کی شرائط پر ہوگا۔ ایران نے پانچ بنیادی شرائط پیش کی ہیں:
- ایران پر جاری حملے اور ایرانی عہدیداروں کے قتل کا فوری خاتمہ۔
- مستقبل میں کسی بھی جارحیت یا حملے کے نہ ہونے کی ٹھوس اور ضمانت شدہ اقدامات۔
- جنگ سے ایران میں ہونے والے نقصانات کا تعین اور مکمل مالی ازالہ۔
- خطے میں ایران کے اتحادی یا حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کا فوری خاتمہ۔
- آبنائے ہرمز پر ایران کی مکمل خود مختاری اور حاکمیت کو تسلیم کرنا۔
ایرانی اعلیٰ عہدیداروں کے مطابق امریکی تجاویز غیر متوازن اور حد سے زیادہ مطالبات پر مبنی ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ جب تک ان کی پیش کردہ شرائط تسلیم نہیں ہوتیں، فوجی اور دفاعی کارروائیاں جاری رہیں گی اور کسی بھی قسم کی جنگ بندی قابل قبول نہیں ہو گی۔
خبر رساں اداروں کے مطابق پاکستان نے ثالث کے طور پر امریکا کی جنگ بندی تجاویز ایران تک پہنچائی ہیں اور ممکنہ طور پر مذاکرات کی میزبانی پاکستان یا ترکی کر سکتا ہے۔ تاہم امریکا کی جانب سے ایران کی پانچ شرائط پر ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے سخت مؤقف سے خطے میں کشیدگی کم ہونے کے امکانات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں اور جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی ثالثی کی کوششیں مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔

