وفاقی حکومت نے ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے پیٹرول پر کوٹہ سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی موبائل ایپ تیار کی جا رہی ہے جس کے ذریعے شہری اپنی گاڑی اور شناختی معلومات درج کرکے خود کو سسٹم میں رجسٹر کر سکیں گے۔ رجسٹریشن کے بعد ہر شہری کو اس کی ضرورت اور ملک میں پیٹرول کی دستیابی کے مطابق محدود کوٹہ الاٹ کیا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد پیٹرول کے غیر ضروری استعمال کو کم کرنا، ہنگامی حالات میں سپلائی کو منظم بنانا اور مارکیٹ میں غیر قانونی ہول سیل یا ذخیرہ اندوزی کے امکانات کو روکنا ہے۔ موبائل ایپ کے ذریعے صارفین اپنی گاڑی کے نمبر اور قومی شناختی کارڈ کے ساتھ سسٹم میں شامل ہوں گے، جبکہ حکومت ہر رجسٹرڈ صارف کے لیے ذاتی پیٹرول کوٹہ مختص کرے گی۔
حکام نے مزید کہا کہ موٹر سائیکلوں، رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے سبسڈی اور محدود کوٹہ فراہم کیا جائے گا، جبکہ ریٹیل پمپس پر ہر گاڑی کے لیے مخصوص ڈسپنسر یا نوزلز مختص ہوں گے تاکہ سبسڈی والے ایندھن کی تقسیم کو آسان بنایا جا سکے۔ حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا اس اسکیم کو چھوٹی کاروں تک بڑھایا جائے یا اسے صرف دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں تک محدود رکھا جائے۔
ذرائع نے بتایا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کا خدشہ ہے۔ ممکنہ طور پر پیٹرول کی قیمت فی لیٹر 55 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 75 روپے تک بڑھ سکتی ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) آئندہ دو روز میں نئی قیمتوں کی ورکنگ مکمل کر کے پٹرولیم ڈویژن کو ارسال کرے گی، جس کے بعد حتمی منظوری کے لیے وزیر اعظم کو سمری بھیجی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق اگر کوٹہ سسٹم اور قیمتوں میں اضافہ بیک وقت نافذ کیا گیا تو اس کے اثرات براہ راست عام شہری، ٹرانسپورٹ سیکٹر اور مہنگائی کی مجموعی شرح پر پڑ سکتے ہیں۔

