اسلام آباد: پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک اور شرط پوری کرتے ہوئے بڑے شاپنگ سینٹرز، ٹیکسٹائل، چمڑے کے کاروبار اور ریسٹورنٹس سمیت 12 ہزار 861 بڑے ری ٹیلرز کو پوائنٹ آف سیل سسٹم سے منسلک کر دیا ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مطابق ملک بھر میں بڑے کاروباری مراکز کو کمپیوٹرائزڈ نظام کے ساتھ جوڑنا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ معیشت کو دستاویزی شکل دی جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ شرائط کے تحت مختلف شعبوں کی رجسٹریشن کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ان ری ٹیلرز کی مجموعی برانچز کی تعداد 35 ہزار 761 ہے جبکہ آئندہ دو برسوں میں 40 ہزار ٹیئر ون ری ٹیلرز کو رجسٹر کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سالانہ 50 کروڑ روپے سے زائد کاروبار کرنے والے ری ٹیلرز کو رواں مالی سال کے اختتام تک ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم سے منسلک کیا جائے گا۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ پوائنٹ آف سیل سسٹم کے ذریعے سیلز ٹیکس کی رئیل ٹائم مانیٹرنگ ممکن ہوگی اور ٹیکس چوری پر قابو پایا جا سکے گا۔ اس نظام کے تحت سیلز کا تمام ڈیٹا براہ راست ایف بی آر کو موصول ہوگا۔
اعداد و شمار کے مطابق اب تک 11 ہزار 301 ٹیئر ون ری ٹیلرز اور ان کی 23 ہزار 676 برانچز رجسٹر ہو چکی ہیں، جبکہ ایک ہزار بڑے ریسٹورنٹس کی 1 ہزار 490 برانچز بھی اس نظام سے منسلک کی جا چکی ہیں۔ اسی طرح ٹیکسٹائل اور چمڑے کے شعبے سے وابستہ 560 بڑے ری ٹیلرز بھی رجسٹر کیے گئے ہیں۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ قوانین کی خلاف ورزی پر 5 لاکھ سے 30 لاکھ روپے تک جرمانہ یا کاروبار کی بندش کی سزا دی جا سکتی ہے۔

