خلیجی کشیدگی نے بھارت کو شدید توانائی بحران میں دھکیل دیا، عالمی میڈیا نے مودی پالیسیوں پر سوال اٹھا دیے
خلیجی خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث جہاں پوری دنیا توانائی کے بحران سے دوچار ہے، وہیں بھارت میں صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے اور عالمی میڈیا نے مودی حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے جس کے باعث ملک بھر میں ریسٹورنٹس گیس کی عدم دستیابی کی وجہ سے بند ہو رہے ہیں، جبکہ کھاد فیکٹریوں اور گیس پر انحصار کرنے والے دیگر کاروبار بھی اپنی سرگرمیاں معطل کرنے پر مجبور ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مختلف شہروں میں شہری گیس سلنڈر کے حصول کے لیے طویل قطاروں میں کھڑے ہیں، جبکہ پہلے سے مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام اب مزید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی نہ ہونے کے باعث صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔
دوسری جانب امریکی جریدے دی نیویارک ٹائمز نے بھی خلیجی جنگ کو بھارتی معیشت کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق طویل کشیدگی بھارت کے مالی وسائل پر شدید دباؤ ڈال سکتی ہے جبکہ گھریلو گیس کی قلت پہلے ہی صارفین کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ کے باعث بھارتی برآمدات اور خلیجی ممالک سے آنے والی ترسیلات زر بھی خطرے میں پڑ گئی ہیں، جبکہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں تقریباً 10 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کے متبادل ذرائع اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے فقدان نے بھارت کو اس بحران کے سامنے کمزور کر دیا ہے، جس کے اثرات براہ راست عوام اور معیشت دونوں پر پڑ رہے ہیں۔

