افغانستان میں طالبان حکومت کے دوران گزشتہ ایک سال میں جسمانی سزاؤں میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے، جہاں مارچ 2025 سے مارچ 2026 تک کم از کم 1186 افراد کو کوڑے مارے گئے جبکہ قصاص کے تحت 6 افراد کو سرعام سزائے موت دی گئی۔
جلا وطن افغان صحافیوں کی جانب سے مرتب کردہ سرکاری بیانات اور اعداد و شمار کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں سخت سزاؤں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ یہ سزائیں کابل، ہرات، بلخ، قندھار، ننگرہار، خوست، بدخشاں، پکتیا، پکتیکا اور فاریاب سمیت متعدد صوبوں میں دی گئیں۔
طالبان عدالتوں کے مطابق گزشتہ سال کے آخری مہینوں میں ان سزاؤں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا، جن میں تقریباً 100 خواتین بھی شامل ہیں جنہیں کوڑے مارے گئے۔ ان میں سے کئی سزائیں عوامی مقامات پر دی گئیں جس سے مقامی سطح پر خوف کی فضا پیدا ہوئی۔
انسانی حقوق کے کارکنوں نے ان اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جسمانی سزاؤں میں اضافہ منصفانہ قانونی عمل، بنیادی آزادیوں اور انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے اور معاشرے میں عدم تحفظ کو بڑھاتا ہے۔

