برطانوی حکومت نے امریکا کو ایران کے خلاف ممکنہ دفاعی کارروائیوں کے لیے اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے، جس کا دائرہ کار اب آبنائے ہرمز میں جہازوں کے تحفظ تک بڑھا دیا گیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اس فیصلے کے تحت امریکی افواج اب ایسے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے برطانوی اڈوں کا استعمال کر سکیں گی جو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
اس سے قبل برطانیہ صرف اُن کارروائیوں کی اجازت دیتا تھا جن کا مقصد ایران کو ایسے میزائل حملوں سے روکنا تھا جو برطانوی مفادات یا شہریوں کے لیے خطرہ بن سکتے تھے، تاہم حالیہ وزارتی اجلاس میں اس اجازت کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔
ڈاؤننگ اسٹریٹ نے واضح کیا ہے کہ برطانیہ خود ان حملوں میں براہِ راست شریک نہیں ہوگا اور اس کا اصولی مؤقف بدستور کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کی حمایت پر قائم ہے۔
ترجمان کے مطابق وزرا نے اس بات پر زور دیا کہ برطانوی اڈے امریکی دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اُن صلاحیتوں کے خلاف جو آبنائے ہرمز میں جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کا ردعمل تاخیر کا شکار رہا اور اسے پہلے اقدام کرنا چاہیے تھا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی عالمی تیل ترسیل کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہے، جس کے باعث عالمی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

