آبنائے ہرمز کھولنے کی تیاری، امریکا کا ممکنہ فوجی آپریشن زیر غور

واشنگٹن: امریکی حکام نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں مشرقِ وسطیٰ میں ہزاروں میرینز تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد خطے میں فوجی صلاحیت اور ردعمل کی تیاری کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی بحری جہاز یو ایس ایس باکسر کے ساتھ میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ اور دیگر جنگی جہاز خطے کی جانب روانہ کیے جا رہے ہیں، جبکہ اضافی دستے مقررہ وقت سے تقریباً تین ہفتے پہلے بھیجے جا رہے ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال ایران کے اندر براہ راست زمینی فوج بھیجنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم خطے میں امریکی افواج کی موجودگی کو نمایاں طور پر بڑھایا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے کہا کہ وہ اس وقت کسی جگہ فوج بھیجنے کا اعلان نہیں کر رہے، اور اگر ایسا فیصلہ کیا گیا تو اس کی پیشگی اطلاع میڈیا کو نہیں دی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق نئی تعیناتیوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کر سکتی ہے، جبکہ دو میرین ایکسپیڈیشنری یونٹس بھی خطے میں موجود ہوں گے جن میں عموماً 2500 اہلکار شامل ہوتے ہیں۔ یہ یونٹس فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں دونوں کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

ادھر اطلاعات کے مطابق امریکا آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے مرحلہ وار فوجی آپریشن پر بھی غور کر رہا ہے، جہاں اے-10 وار تھوگ طیارے اور اپاچی ہیلی کاپٹر تعینات کیے جا رہے ہیں تاکہ بارودی سرنگوں، مسلح کشتیوں اور ڈرونز جیسے خطرات کو ختم کیا جا سکے۔

امریکی حکام کے مطابق اس آپریشن کا مقصد خلیجی پانیوں میں تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا ہے، تاہم اس عمل میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں کیونکہ ایران کے پاس ساحلی علاقوں میں بڑی تعداد میں دفاعی وسائل موجود ہیں۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے کیونکہ یہ راستہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل ترسیل کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور اس کی بندش کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔