امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے مبینہ فائرنگ کے بعد امریکی جدید لڑاکا طیارہ ایف 35 اسٹیلتھ طیارہ کو مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی فضائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔
رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ طیارہ ایک جنگی مشن پر تھا جب اسے اچانک ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد اسے فوری لینڈنگ کرنا پڑی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز کے مطابق یہ پانچویں نسل کا طیارہ ایران کے اوپر پرواز کر رہا تھا اور بحفاظت لینڈ کر گیا ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے رات 2 بج کر 50 منٹ پر امریکی طیارے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں طیارہ شدید نقصان کا شکار ہوا اور ممکنہ طور پر تباہ بھی ہو سکتا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی ان کے فضائی دفاعی نظام کی مضبوطی کا ثبوت ہے، اور وہ اس سے قبل بھی 150 ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کر چکے ہیں۔
ایرانی میڈیا پر جاری مبینہ ویڈیوز میں فضائی دفاعی نظام کو ایک طیارے کو نشانہ بناتے دکھایا گیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔
سی این این کے مطابق اگر ایران کے اس دعوے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ پہلا موقع ہوگا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران کسی امریکی طیارے کو براہ راست نشانہ بنایا گیا ہو۔ اس تنازع میں امریکا اور اسرائیل دونوں جدید طیارے استعمال کر رہے ہیں جن کی مالیت 100 ملین ڈالر سے زائد ہوتی ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اس سے قبل بھی امریکی فضائیہ کو نقصانات کا سامنا رہا ہے، جن میں ایف 15 لڑاکا طیارہ کے حادثات شامل ہیں، تاہم انہیں دشمن کی فائرنگ کا نتیجہ قرار نہیں دیا گیا۔ اسی طرح ایک کے سی 135 اسٹریٹو ٹینکر طیارہ بھی مغربی عراق میں گر کر تباہ ہوا تھا جس میں سوار تمام افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
ماہرین کے مطابق اس واقعے نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور متضاد دعوؤں کے باعث صورتحال تاحال غیر واضح ہے۔

