ایران کی اہم سیاسی شخصیت علی لاریجانی اسرائیلی حملے میں شہید

ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی اسرائیل اور امریکا کے مبینہ حملے میں شہید ہوگئے، ایرانی حکام نے ان کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق علی لاریجانی کو مشرقی تہران میں نشانہ بنایا گیا جہاں وہ اپنی بیٹی سے ملاقات کے لیے گئے ہوئے تھے۔ حملے میں ان کے بیٹے مرتضیٰ بھی شہید ہوگئے۔

علی لاریجانی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری بیان میں ان کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا کہ “خدا کا بندہ خدا سے جا ملا”، جبکہ اس سے قبل ان کے اکاؤنٹ سے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کا پیغام بھی جاری کیا گیا تھا۔

اسرائیلی حکام نے اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ تہران میں ایک مقام پر علی لاریجانی کو نشانہ بنایا گیا، جس میں ایران کی داخلی سکیورٹی فورس بسیج کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی بھی مارے گئے۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ علی لاریجانی کی شہادت خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ قطر میں حمد بن خلیفہ یونیورسٹی کے سینئر پروفیسر سلطان برکات کے مطابق اس واقعے کے بعد سفارتی حل تک پہنچنا مزید مشکل ہو جائے گا اور ایران کے اندر سخت گیر عناصر مضبوط ہوں گے۔

علی لاریجانی ایران کی نمایاں سیاسی اور سکیورٹی شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ وہ عراق کے شہر نجف میں پیدا ہوئے اور پاسداران انقلاب میں شمولیت کے بعد ملکی سیاست میں اہم مقام حاصل کیا۔

67 سالہ علی لاریجانی نے طویل عرصے تک ایران کی پارلیمنٹ کی قیادت کی اور وہ جوہری پروگرام کے چیف مذاکرات کار بھی رہ چکے تھے۔ انہیں ایران کی قدامت پسند مگر نسبتاً معتدل سوچ رکھنے والی بااثر شخصیت سمجھا جاتا تھا۔

وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریبی مشیر بھی سمجھے جاتے تھے اور ملکی سکیورٹی و خارجہ پالیسی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔