وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان نے اپنی 78 سالہ تاریخ میں کئی غلطیاں کیں، تاہم افغانوں کی مہمان نوازی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوئی، اللہ ہمیں معاف کرے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان پر افغانستان میں اسپتال پر حملے کا الزام وہ عناصر لگا رہے ہیں جو خود مساجد، بازاروں اور اسکولوں پر حملوں میں ملوث رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر نہتے شہریوں اور معصوم بچوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کا ذریعہ آمدنی منشیات کی اسمگلنگ ہو اور جو اپنے وعدوں کی پاسداری نہ کریں، وہی پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ عناصر معاہدوں کی تکمیل کے لیے بھی مالی مطالبات کرتے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں سے افغان شہریوں کو پناہ دی اور ان کے لیے بڑی قربانیاں بھی دیں، یہاں تک کہ ایک سپر پاور کا مقابلہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ تین نسلوں تک مہمان نوازی کے باوجود آج یہی عناصر پاکستان کے خلاف برسرپیکار ہیں۔
انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ پاکستان کی جانب سے کی گئی اس طویل مہمان نوازی کو اب ایک بڑی غلطی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اس پر اللہ سے معافی طلب کرتے ہیں۔

