کابل اور ننگرہار میں عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، افغان طالبان کے دعوے جھوٹے اور گمراہ کن ہیں: وزارت اطلاعات
وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کے ترجمان کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں دہشت گردی سے متعلق عسکری تنصیبات کو نہایت درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا ہے، اس لیے افغان طالبان رجیم کے ترجمان کا بیان جھوٹا اور گمراہ کن ہے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق طالبان رجیم کے نام نہاد ترجمان کا دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور اس کا مقصد عوامی رائے کو گمراہ کرنا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ 16 مارچ کی شب پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں دہشت گردی کے معاون ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جن میں تکنیکی آلات کے ذخیرے، اسلحہ اور گولہ بارود کے بڑے ذخائر شامل تھے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق یہ اسلحہ بے گناہ پاکستانی شہریوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا تھا۔ کارروائی کے دوران ذخیرہ شدہ گولہ بارود میں ہونے والے زوردار دھماکوں سے واضح ہوتا ہے کہ وہاں دہشت گرد عناصر کے زیر استعمال بھاری مقدار میں اسلحہ موجود تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی کارروائیاں انتہائی احتیاط اور درستگی کے ساتھ کی جاتی ہیں تاکہ کسی بھی قسم کا غیر ضروری یا کولیٹرل نقصان نہ ہو۔ ان عسکری اہداف کو منشیات بحالی مرکز قرار دینا دراصل عوامی جذبات کو بھڑکانے کی کوشش ہے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق افغان طالبان رجیم کا دعویٰ دراصل سرحد پار دہشت گردی کی معاونت کو چھپانے کا حربہ ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ علاقائی امن و سلامتی کو ترجیح دی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق 16 مارچ کی شب پاک افواج نے کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان کی فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ کابل میں دو مختلف مقامات پر ٹیکنیکل سپورٹ انفراسٹرکچر اور ایمونیشن اسٹوریج کو مؤثر انداز میں تباہ کیا گیا۔
فضائی حملوں کے بعد ہونے والی سیکنڈری ڈیٹونیشن اور بلند شعلوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہاں بارودی مواد کا بڑا ذخیرہ موجود تھا۔ ننگرہار میں بھی متعدد مقامات پر افغان طالبان کی ملٹری تنصیبات، لاجسٹک سہولیات اور تکنیکی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن “غضب للحق” کے تحت کارروائیاں اہداف کے مکمل حصول تک جاری رہیں گی۔ وزارت اطلاعات نے افغانستان میں مبینہ شہری ہلاکتوں سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی بھی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی انتہائی احتیاط کے ساتھ کی گئی تاکہ کسی شہری کو نقصان نہ پہنچے۔

