ایران جنگ پر امریکا میں سیاسی ہلچل، ٹرمپ کی پارٹی میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ نے امریکا کی داخلی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے اور ان کی جماعت ریپبلکن پارٹی کے اندر واضح اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریپبلکن پارٹی کے کچھ رہنما اور کارکن ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ متعدد قدامت پسند شخصیات اس جنگ کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کر رہی ہیں۔ بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ یہ دراصل اسرائیل کے مفادات کی جنگ ہے اور امریکا کو اس تنازع میں براہِ راست شامل نہیں ہونا چاہیے۔

معروف امریکی میڈیا شخصیت ٹکر کارلسن نے بھی کھل کر کہا ہے کہ امریکا کو جلد اس تنازع سے نکل جانا چاہیے۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے گزشتہ ماہ صدر ٹرمپ سے ملاقات کر کے انہیں ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے باز رکھنے کی کوشش بھی کی تھی۔

اسی طرح معروف پوڈکاسٹر جو روگن نے اس جنگ کو “انتہائی پاگل پن” قرار دیا جبکہ سابق رکن کانگریس میجوری ٹیلر گرین نے کہا کہ امریکی عوام نے مزید بیرونی جنگوں کے خلاف ووٹ دیا تھا۔

امریکی کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات دیکھنے میں آئے۔ ریپبلکن رکن کانگریس تھامس میسی نے ایک ایسے بل کی حمایت کی جس کے تحت کانگریس کو جنگ کے فیصلے پر ویٹو کا اختیار دیا جا سکتا تھا تاہم یہ تجویز منظور نہ ہو سکی۔

عوامی سروے کے مطابق تقریباً 54 فیصد امریکی شہری ایران سے متعلق صدر ٹرمپ کی پالیسی سے اختلاف کرتے ہیں۔ جماعتی بنیاد پر جائزہ لیا جائے تو تقریباً 89 فیصد ڈیموکریٹس جنگ کے مخالف ہیں جبکہ تقریباً 77 فیصد ریپبلکن ووٹر اس کی حمایت کرتے ہیں، تاہم پارٹی کے اندر بھی واضح نظریاتی تقسیم دیکھی جا رہی ہے۔