ایران جنگ کے اثرات، عالمی توانائی ایجنسی کا 400 ملین بیرل تیل کے اسٹریٹجک ذخائر جاری کرنے کا اعلان

پیرس: ایران جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی کے بعد عالمی توانائی ایجنسی نے اسٹریٹجک ذخائر سے ریکارڈ مقدار میں تیل جاری کرنے کا اعلان کردیا۔

عالمی توانائی ایجنسی نے 400 ملین بیرل تیل مارکیٹ میں جاری کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ فیصلہ فرانس کی سربراہی میں جی 7 رہنماؤں کے ورچوئل اجلاس کے دوران کیا گیا۔

ایجنسی کے مطابق ہنگامی ذخائر ہر رکن ملک کی قومی صورتحال کے مطابق مناسب مدت میں عالمی منڈی میں فراہم کیے جائیں گے تاکہ رسد بہتر بنائی جا سکے۔

عالمی توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو میں لانا اور عالمی منڈی میں استحکام پیدا کرنا ہے۔ اس فیصلے کی 32 رکن ممالک نے متفقہ طور پر حمایت کی۔

1970 کی دہائی میں عالمی توانائی ایجنسی کے قیام کے بعد یہ چھٹی مرتبہ ہے کہ اسٹریٹجک تیل ذخائر جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس سے قبل آخری بار 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد ایسا اقدام کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اور تیل تنصیبات پر حملوں کے خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک ہی دن میں تقریباً 30 فیصد اضافہ دیکھا گیا تھا۔

تاہم جی 7 ممالک کی جانب سے ہنگامی ذخائر استعمال کرنے کے اشاروں کے بعد قیمتوں میں وقتی کمی آئی، لیکن ایک بار پھر عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔

اس وقت امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 5.22 ڈالر اضافے کے بعد 87.81 ڈالر فی بیرل جبکہ برطانوی خام تیل برینٹ کی قیمت 5.18 ڈالر اضافے کے بعد 92.35 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔