تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کا خطے کے کسی بھی ملک کے ساتھ تنازع میں پڑنے کا کوئی ارادہ نہیں اور ایران خطے میں امن اور استحکام چاہتا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو ہوئی جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور باہمی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
گفتگو کے دوران ایرانی صدر نے کہا کہ اگر عالمی برادری جنگ کے ذمہ دار عناصر پر توجہ نہیں دیتی تو عالمی نظام اور سکیورٹی کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کا خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ کسی تنازع میں پڑنے کا کوئی ارادہ نہیں اور ایران صرف دفاعی اقدامات تک محدود رہتے ہوئے حالات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی خطے میں حالیہ کشیدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں اور مذاکرات کو ناگزیر سمجھتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں تمام فریقین کو تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ صورتحال مزید خراب نہ ہو۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان برادر اسلامی ملک ایران کے ساتھ اپنے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ علاقائی صورتحال میں باہمی رابطے اور مشاورت کو جاری رکھا جائے گا جبکہ مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے نومنتخب سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو خط لکھ کر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت کا اظہار بھی کیا تھا۔

