“دیکھیں گے کیا ہوتا ہے”، امریکی صدر ٹرمپ کا ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی نامزدگی پر محتاط ردعمل
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ممکنہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی نامزدگی پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
اسرائیلی اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ “دیکھیں گے کیا ہوتا ہے” اور ایران کے ساتھ جاری کشیدگی یا جنگ ختم کرنے کے فیصلے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ اتفاق رائے سے کیے جائیں گے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے مجتبیٰ خامنہ ای کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ان کا انجام وہی ہو سکتا ہے جو ان کے والد کا ہوا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر نامزد کیا گیا ہے۔
ایران کی مجلس خبرگان نے عوام سے اپیل کی کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد اور یکجہتی برقرار رکھی جائے اور نئے سپریم لیڈر کے ساتھ وفاداری کا اظہار کیا جائے۔
رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے کبھی کسی سرکاری عہدے کے لیے انتخاب نہیں لڑا اور نہ ہی عوامی ووٹ کے ذریعے منتخب ہوئے، تاہم وہ کئی دہائیوں سے سپریم لیڈر کے قریبی حلقوں میں ایک بااثر شخصیت سمجھے جاتے ہیں اور پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ ان کے گہرے تعلقات ہیں۔

