امریکی سینیٹ میں ایران پر حملے روکنے کی قرارداد ناکام، صدر ٹرمپ کو کارروائیاں جاری رکھنے کا راستہ مل گیا
واشنگٹن: امریکی سینیٹ نے کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران پر فوجی حملے روکنے سے متعلق وار پاورز قرارداد مسترد کر دی، جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا عملی میدان مل گیا۔
100 رکنی سینیٹ میں قرارداد 47 کے مقابلے 52 ووٹوں سے مسترد ہوئی۔ ری پبلکن ارکان کی اکثریت نے ایران کے خلاف فوجی اقدامات کی حمایت کی، جبکہ ڈیموکریٹس نے صدر کے اختیارات محدود کرنے پر زور دیا۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ایران پر فضائی حملے فوری روکے جائیں اور کسی بھی مزید عسکری کارروائی کے لیے کانگریس سے باقاعدہ منظوری حاصل کی جائے۔ امریکی میڈیا کے مطابق قرارداد کی قیادت سینیٹر ٹم کین نے کی تھی اور متعدد سینیٹرز نے اس کی حمایت کی، تاہم ری پبلکن اکثریت نے اسے آگے بڑھنے سے روک دیا۔
ایوان میں بحث کے دوران ڈیموکریٹ سینیٹرز کا مؤقف تھا کہ جنگی فیصلوں پر کانگریس کا اختیار برقرار رہنا چاہیے اور صدر کو یکطرفہ طور پر عسکری مہم شروع کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ سینیٹر ایڈم شف نے کہا کہ معاملہ صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ اختیارات کے توازن کا بھی ہے۔
دوسری جانب ری پبلکن ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ حالات میں صدر کی جانب سے فوجی اقدامات قومی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق ہیں اور انہیں محدود کرنا مناسب نہیں۔
واضح رہے کہ سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کو عددی برتری حاصل ہے، جس کے باعث قرارداد کو درکار حمایت حاصل نہ ہو سکی۔

