ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں نے مشرق وسطی کو ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ہر فیصلہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور عالمی طاقتوں کے توازن پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ سینئیر دفاعی تجزیہ کار سلمان علی کی ان کے یو ٹیوب چینل پر رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابتدا میں تو یہ بیانیہ سامنے آیا کہ یہ کارروائیاں اسرائیل کو درپیش خطرات، ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور ممکنہ نیوکلیئر عزائم کے خلاف تھیں۔ لیکن جیسے جیسے واقعات آگے بڑھے، یہ تاثر مضبوط ہوتا گیا کہ یہ صرف دفاعی اقدام نہیں بلکہ ایک وسیع تر اسٹریٹیجک کھیل کا حصہ ہے۔
ایران کے لیے یہ جنگ “War of Survival” بنتی جا رہی ہے، آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کی قیادت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے
اس جنگ کو کئی تجزیہ کار “War of Choice” قرار دے رہے ہیں، یعنی ایسا معرکہ جس کا میدان اور وقت امریکہ نے خود منتخب کیا۔ اس کے برعکس ایران کے لیے یہ جنگ “War of Survival” بنتی جا رہی ہے۔ ایران کو اپنی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور ریاستی ڈھانچے کے تحفظ کا چیلنج درپیش ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کی قیادت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ تاہم ایرانی ریاست نے گزشتہ برسوں میں اپنے کمانڈ اسٹرکچر کو ڈی سینٹرلائز کرتے ہوئے ایسے انتظامات کیے کہ اعلیٰ قیادت کو نقصان پہنچنے کے باوجود عسکری ردعمل جاری رہ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ قیادت کے بڑے نقصان کے باوجود ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتیں فعال دکھائی دے رہی ہیں۔
اسرائیل کا مؤقف یہ ہے کہ یہ کارروائیاں ایران کی بڑھتی ہوئی جارحیت کے جواب میں کی گئیں، جبکہ ایران اسے اپنی خودمختاری کے خلاف پیشگی حملوں کا ردعمل قرار دیتا ہے
ایران نے اسرائیل پر متعدد بیلسٹک میزائل حملے کیے، جبکہ خلیج میں موجود امریکی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔ اسرائیل کا مؤقف یہ ہے کہ یہ کارروائیاں ایران کی بڑھتی ہوئی جارحیت کے جواب میں کی گئیں، جبکہ ایران اسے اپنی خودمختاری کے خلاف پیشگی حملوں کا ردعمل قرار دیتا ہے۔ “Operation Epic Fury” یا “Operation Roaring Lines” جیسے ناموں کے ساتھ شروع ہونے والی کارروائیاں دراصل خطے میں طاقت کے توازن کو ازسرِنو ترتیب دینے کی کوشش بھی ہو سکتی ہیں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے حالیہ بیانات سے یہ واضح ہوا کہ پاکستان نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان براہِ راست تصادم کو روکنے میں کردار ادا کیا
خطے کے دیگر ممالک کی صورتحال بھی پیچیدہ ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے اسٹریٹیجک دفاعی تعلقات کے تناظر میں اسلام آباد نے بیک ڈور سفارتکاری کے ذریعے کشیدگی کو کم رکھنے کی کوشش کی۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے حالیہ بیانات سے یہ واضح ہوا کہ پاکستان نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان براہِ راست تصادم کو روکنے میں کردار ادا کیا۔ تاہم متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور کویت جیسے ممالک غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں، کیونکہ ان کی سرزمین پر امریکی اڈے موجود ہیں جو کسی بھی ایرانی ردعمل کا ہدف بن سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل گزرگاہ ہے، اگر یہ راستہ بند ہوتا ہے تو چین، بھارت، پاکستان اور یورپ سمیت پوری دنیا کی معیشت ہل سکتی ہے
توانائی کی عالمی سپلائی اس بحران کا سب سے حساس پہلو ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل گزرگاہ ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل گزرتا ہے۔ اگر یہ راستہ بند ہوتا ہے تو چین، بھارت، پاکستان اور یورپ سمیت پوری دنیا کی معیشت ہل سکتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں تیزی، شپنگ انشورنس کے بڑھتے اخراجات اور عالمی مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال پہلے ہی اثر انداز ہونا شروع ہو چکی ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا یہ بحران ایک محدود علاقائی جنگ رہتا ہے یا عالمی طاقتوں کے درمیان پراکسی ٹکراؤ کی شکل اختیار کرتا ہے
دوسری جانب سوال یہ بھی ہے کہ چین اور روس کس حد تک ایران کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بظاہر یہ دونوں طاقتیں براہِ راست جنگ میں شامل نہیں، لیکن سفارتی حمایت، انٹیلی جنس شیئرنگ یا دفاعی سازوسامان کی فراہمی جیسے پہلو زیرِ بحث ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا یہ بحران ایک محدود علاقائی جنگ رہتا ہے یا عالمی طاقتوں کے درمیان پراکسی ٹکراؤ کی شکل اختیار کرتا ہے۔
اصل چیلنج یہ ہے کہ کیا سفارتکاری دوبارہ مؤثر ہو سکتی ہے یا خطہ ایک طویل اور تباہ کن جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے
امریکہ کے لیے سب سے بڑا سوال “Boots on the Ground” ہے۔ ویتنام اور افغانستان کے تجربات نے یہ ثابت کیا کہ زمینی جنگ میں طویل شمولیت امریکہ کے لیے سیاسی اور عسکری نقصان کا باعث بنتی ہے۔ اگر یہ تنازعہ زمینی مداخلت تک پہنچتا ہے تو اس کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ امریکی داخلی سیاست پر بھی اثر انداز ہوں گے۔
مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ جنیوا میں سفارتی کوششیں جاری تھیں، تاہم پیشگی حملوں نے اعتماد کو نقصان پہنچایا۔ اب اصل چیلنج یہ ہے کہ کیا سفارتکاری دوبارہ مؤثر ہو سکتی ہے یا خطہ ایک طویل اور تباہ کن جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔
اسرائیل کی سیکیورٹی، ایران کی بقا، عرب ریاستوں کی سلامتی، اور عالمی معیشت، سب ایک نازک توازن پر کھڑے ہیں
مختصرا ایران اور امریکہ کے درمیان یہ کشمکش صرف دو ممالک کی جنگ نہیں بلکہ خطے کی طاقت کی نئی ترتیب کا معرکہ ہے۔ اسرائیل کی سیکیورٹی، ایران کی بقا، عرب ریاستوں کی سلامتی، اور عالمی معیشت، سب ایک نازک توازن پر کھڑے ہیں۔ آنے والے ہفتے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، اور اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو اس کے اثرات دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
ویڈیو دیکھیں 👇🏼

