کراچی: عالمی مالیاتی فنڈ کا وفد 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے تحت تیسرے اقتصادی جائزے اور آر ایس ایف پروگرام کے دوسرے جائزے کے لیے پاکستان پہنچ گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف وفد نے اسٹیٹ بینک میں حکام سے ملاقات کی جہاں پہلے مرحلے میں ٹیکنیکل ڈیٹا شیئرنگ کی گئی۔ وفد کو جولائی تا جنوری معاشی کارکردگی، زرمبادلہ ذخائر اور مالیاتی اشاریوں پر بریفنگ دی گئی۔
مذاکرات کے دوران مانیٹری پالیسی، افراط زر، بینکنگ ریگولیشنز، اینٹی منی لانڈرنگ اور اینٹی ٹیرر فنانسنگ اقدامات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ آئی ایم ایف نے 30 جون تک زرمبادلہ ذخائر 17.8 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران پرائمری بیلنس 4 ہزار 105 ارب روپے سرپلس رہا جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے منفی 0.6 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔ مہنگائی کی شرح 5 سے 7 فیصد کے درمیان رہنے اور معاشی شرح نمو 3.7 سے 4.7 فیصد تک رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف وفد سے اسلام آباد میں بھی مذاکرات ہوں گے اور ٹیکس ریونیو سمیت دیگر اہداف پر بات چیت کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق کامیاب مذاکرات کی صورت میں اسٹاف لیول معاہدہ طے پانے اور تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی قسط جاری ہونے کا امکان ہے جبکہ آر ایس ایف پروگرام کے تحت تقریباً 20 کروڑ ڈالر ملنے کی توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔

