بلیو اکانومی پاکستان کا مستقبل: 1100 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی، پاکستان کے لیے نیا معاشی موقع

اینکر پرسن انوار الحسن کے پروگرام سچ تو یہ ہے میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار احمد منصور نے بلیو اکانومی کو پاکستان کی معاشی ترقی کا روشن مستقبل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی موجودہ ترجیحات میں بلیو اکانومی سرفہرست ہے، جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ میری ٹائم کانفرنس اب امن ایکسرسائز کا مستقل اور کلیدی حصہ بن چکی ہے جو ہر سال کراچی میں منعقد ہوتی ہے۔

وزارتِ میری ٹائم امور ایس آئی ایف سی کے ساتھ مل کر بلیو اکانومی میں مزید سرمایہ کاری لانے کے لیے سرگرم ہے

احمد منصور کا کہنا تھا کہ پاکستان کے زمینی رقبے کے برابر تقریباً سمندری حدود ہمارے کنٹرول میں ہیں جہاں بیش بہا زیرِ آب معدنی اور قدرتی وسائل موجود ہیں، جن سے مؤثر انداز میں فائدہ اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شپنگ انڈسٹری، خصوصاً چھوٹے اور بڑے جہازوں کی تیاری، خطے میں بڑی مانگ رکھتی ہے اور پاکستان اس شعبے میں اتھارٹی بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

ان کے مطابق وزارتِ میری ٹائم امور ایس آئی ایف سی کے ساتھ مل کر اس شعبے میں مزید سرمایہ کاری لانے کے لیے سرگرم ہے، جبکہ ساحلی پٹی پر آئل ریفائنریوں کے قیام سے عالمی آئل ٹینکرز پاکستان آکر تیل ریفائن کر کے دنیا بھر میں برآمد کر سکیں گے۔

اب وقت آ چکا ہے کہ مستقل مزاجی اور درست حکمتِ عملی کے ساتھ ان مواقع سے فائدہ اٹھایا جائے، کیونکہ یہی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کا نسبتاً آسان اور مؤثر راستہ ہے

احمد منصور نے میری ٹائم ٹورازم اور سمندری زراعت کو بھی بلیو اکانومی کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ مستقل مزاجی اور درست حکمتِ عملی کے ساتھ ان مواقع سے فائدہ اٹھایا جائے، کیونکہ یہی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کا نسبتاً آسان اور مؤثر راستہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کی بڑی آبادیاں ساحلوں کے قریب واقع ہیں اور پاکستان کی 1100 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی پر نئے شہر آباد کرنے کے لیے کم از کم سو سالہ جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ بڑے شہروں میں بڑھتے ہوئے کنکریٹ کے جنگلوں کا دباؤ کم کیا جا سکے۔

گزشتہ 75 برسوں میں بلیو اکانومی پر اس سطح کی واضح بحث اور توجہ پہلی بار دیکھنے میں آ رہی ہے، جو حکومتی سنجیدگی کی عکاس ہے

اسی پروگرام میں ماہرِ معاشیات ڈاکٹر عابد قیوم نے کہا کہ بلیو اکانومی کو عموماً صرف ماہی گیری تک محدود سمجھا جاتا ہے، حالانکہ کراچی سے بلوچستان تک پھیلی 1100 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی سے جڑی تجارت، میرین ٹورازم اور آف شور فلوٹنگ سولر انرجی پروڈکشن بھی اس کا حصہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 75 برسوں میں بلیو اکانومی پر اس سطح کی واضح بحث اور توجہ پہلی بار دیکھنے میں آ رہی ہے، جو حکومتی سنجیدگی کی عکاسی کرتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد بھارت کا چاہ بہار سے انخلا پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے کہ گوادر پورٹ کو بھرپور طریقے سے فعال بنا کر خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط بنائے

ڈاکٹر عابد قیوم کے مطابق بندرگاہیں صرف تجارت ہی نہیں بلکہ پورے معاشی ایکو سسٹم کو سہارا دیتی ہیں، جیسے پورٹ قاسم کراچی کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، ویسے ہی گوادر پورٹ کی مکمل فعالیت سے گوادر میں پاور پلانٹس، انڈسٹریز اور فوڈ پروسیسنگ زونز کے قیام کے ذریعے نمایاں معاشی ترقی ممکن ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں پاکستان کا سب سے بڑا حریف چاہ بہار بندرگاہ تھی جسے بھارت آپریٹ کر رہا تھا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد بھارت کے وہاں سے انخلا کو پاکستان کے لیے ایک اہم موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب گوادر پورٹ کو بھرپور طریقے سے فعال بنا کر خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط کی جا سکتی ہے۔