رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں تجارتی خسارہ 19 ارب ڈالر سے تجاوز، برآمدات میں کمی اور درآمدات میں نمایاں اضافہ

اسلام آباد: جاری اعداد و شمار کے مطابق، رواں مالی سال کے ابتدائی 6 ماہ میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 19 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔

ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق، جولائی سے دسمبر کے دوران برآمدات میں 8.7 فیصد کمی جبکہ درآمدات میں 11.28 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں پاکستان کی مجموعی برآمدات 15 ارب 18 کروڑ ڈالر سے زائد رہیں، جبکہ اسی عرصے میں درآمدات 34 ارب 38 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔

گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں برآمدات 16 ارب 63 کروڑ ڈالر جبکہ درآمدات 30 ارب 90 کروڑ ڈالر تھیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ درآمدی دباؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سال دسمبر کے مقابلے میں رواں مالی سال دسمبر کے دوران برآمدات میں 20 فیصد کمی جبکہ درآمدات میں 2 فیصد اضافہ ہوا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق، حکومت کی جانب سے درآمدی پالیسی میں نرمی کے بعد دسمبر میں تجارتی خسارہ ماہانہ بنیاد پر 24 فیصد بڑھ گیا۔

دسمبر 2024 میں تجارتی خسارہ 3 ارب ڈالر تھا جو دسمبر 2025 میں بڑھ کر 3 ارب 71 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔

دسمبر کے مہینے میں درآمدات 6 ارب ڈالر سے تجاوز کرتے ہوئے 6 ارب 2 کروڑ ڈالر رہیں، جبکہ برآمدات میں ماہانہ بنیاد پر 4 فیصد کمی کے بعد یہ 2 ارب 32 کروڑ ڈالر تک محدود رہیں۔

ماہرین کے مطابق، برآمدات میں مسلسل کمی اور درآمدات میں تیزی سے اضافہ ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔