پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان تین ترقیاتی معاہدے، 381 ملین ڈالر کی منظوری

پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے درمیان تین اہم معاہدوں پر دستخط ہو گئے ہیں، جبکہ بینک نے مجموعی طور پر 381 ملین ڈالر مالیت کے تین بڑے ترقیاتی منصوبوں کی بھی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ یہ معاہدے اور مالی معاونت پاکستان میں ٹرانسپورٹ، زرعی جدیدیت، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں نمایاں بہتری لانے میں معاون ثابت ہوگی۔

اسلام آباد میں ہونے والی تقریب میں پاکستان اور اے ڈی بی کے درمیان ایم ایل ون کراچی، روہڑی سیکشن کی اپ گریڈیشن، کوئٹہ بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبہ اور بلوچستان واٹر ریسورسز ڈیولپمنٹ پروگرام سے متعلق معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ سیکرٹری اقتصادی امور نے اے ڈی بی کی مسلسل معاونت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبے ملک کی معاشی بحالی اور بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی میں اہم قدم ہیں۔

دوسری جانب، اے ڈی بی نے پنجاب کے لیے زراعت، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں 381 ملین ڈالر کی منظوری دے دی ہے۔ بینک کے مطابق، جدید اور ماحول دوست زرعی مشینری کے فروغ کے لیے 120 ملین ڈالر قرض اور 4 ملین ڈالر گرانٹ فراہم کی گئی ہے، جس سے 2 لاکھ 20 ہزار دیہی خاندان مستفید ہوں گے جبکہ 15 ہزار خواتین کی پیشہ ورانہ مہارت میں اضافہ کیا جائے گا۔

پنجاب، جو غذائی پیداوار کا مرکزی صوبہ ہے، میں جدید مشینری کے استعمال سے نہ صرف فصل کی پیداوار بہتر ہوگی بلکہ فصلوں کی باقیات جلانے سے پیدا ہونے والی آلودگی میں بھی کمی آئے گی۔

مزید برآں، ثانوی سطح پر ایس ٹی سی ایم تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے 107 ملین ڈالر کی منظوری دی گئی ہے، جبکہ نرسنگ کی تعلیم اور صحت کے شعبے میں تربیت یافتہ اسٹاف کی دستیابی بڑھانے کے لیے 150 ملین ڈالر قرض فراہم کیا جائے گا۔ منصوبے کے تحت لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں جدید تربیتی مراکز اور سینٹرز آف ایکسیلنس قائم کیے جائیں گے۔

حکام کے مطابق، اے ڈی بی کی مالی معاونت پاکستان میں سماجی و معاشی ترقی کے لیے انتہائی اہم سنگ میل ہے۔