فیصل آباد کے علاقے ملک پور میں کیمیکل فیکٹری کے اندر گیس لیکج یا بوائلر پھٹنے کے باعث خوفناک دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 19 ہوگئی جبکہ متعدد زخمی اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ دھماکا اتنا شدید تھا کہ فیکٹری مکمل طور پر زمین بوس ہوگئی اور اس میں آگ بھڑک اُٹھی، جبکہ اردگرد کے کئی گھروں کی چھتیں بھی منہدم ہو گئیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق، اب تک 18 لاشیں ملبے سے نکالی جا چکی تھیں، جبکہ ایک زخمی اسپتال میں دم توڑ گیا۔ زخمی ہونے والے 7 افراد کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے اور خدشہ ہے کہ مزید لوگ تاحال ملبے کے نیچے دبے ہوسکتے ہیں۔
دھماکے سے متاثرہ گھروں کے رہائشیوں میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں۔ ایک گھر کی چھت گرنے سے میاں بیوی اور ان کے دو بچے جاں بحق ہوئے، جبکہ مجموعی ہلاکتوں میں چھ بچے، دو خواتین، دو بزرگ اور فیکٹری کے ملازمین شامل ہیں۔
کمشنر فیصل آباد کے مطابق، ابتدائی تحقیقات میں اشارہ ملتا ہے کہ دھماکا گیس پائپ لائن پھٹنے یا بوائلر بلاسٹ کے نتیجے میں ہوا، اور ملک پور میں چار فیکٹریاں ایک ساتھ منسلک ہو کر کام کر رہی تھیں۔
واقعے کی تحقیقات کے لیے 5 رکنی کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔
ریسکیو ٹیمیں علاقے میں سرچ آپریشن تیز کرتے ہوئے مزید متاثرین تک رسائی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

