تہران: ایران نے سلطنت عمان کے ساتھ بحری راستے سے متعلق معاہدے کے بعد ثالثوں کے ذریعے امریکا کو 7 سخت شرائط پیش کر دی ہیں اور واضح کیا ہے کہ ان مطالبات پر عمل نہ ہونے تک عالمی تیل کی ترسیل کے اہم ترین راستے ‘آبنائے ہرمز’ کو نہیں کھولا جائے گا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے سینئر حکام اور صدر مسعود پزشکیان کے مطابق شرائط میں ایران کی ناکہ بندی کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی بحالی، تیل کی برآمدات پر سے پابندیوں کا خاتمہ، امریکی دھمکیوں و فوجی جارحیت کی بندش، علاقائی حلیفوں کے خلاف جنگ کا خاتمہ، ایرانی سرحدوں کے اطراف سے امریکی فوج کا انخلا، اور نیوکلیئر و میزائل صلاحیتوں میں عدم مداخلت سمیت جنگی ہرجانے کی ادائیگی شامل ہیں۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ پیر کو مسقط میں خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ کی موجودگی میں عمان اور ایران کے درمیان ہونے والے سمجھوتے کا مقصد آبنائے ہرمز کو فوری کھولنا نہیں بلکہ نئے بحری راستے کے طریقہ کار سے آگاہ کرنا ہے۔
نئے پروٹوکول کے تحت خلیج فارس کا داخلی و خارجی راستہ ایرانی انتظامیہ کے تحت ہو گا جبکہ جنوبی راستہ بند رہے گا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی کا تمام تر انحصار واشنگٹن کے اقدامات اور معاہدوں پر پاسداری سے مشروط ہے۔
