صنعا: یمن کی انصار اللہ (حوثی) نے مغربی ساحلی علاقوں میں وسیع فوجی آپریشن کے بعد اہم عالمی بحری گزرگاہ آبنائے ‘باب المندب’ اور اس سے منسلک اسٹریٹجک علاقوں پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کر دیا ہے۔
حوثی رہنما محمد البخیتی، عسکری ترجمان یحییٰ سریع اور ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق حوثی جنگجوؤں نے صوبہ تعز اور الحدیدہ کے 6 اضلاع پر پیش قدمی کرتے ہوئے الخالد اور جبل النصر کے عسکری اڈوں، المخا بندرگاہ کے داخلی راستوں اور المخا ایئرپورٹ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
علاوہ ازیں، حوثی فورسز آبنائے کے وسط میں واقع اہم جزیرہ پیرِم (Perim) اور جزیرہ زُقر تک پہنچ گئی ہیں جس کے بعد یمن کی پوری بحیرہ احمر کی ساحلی پٹی پر ان کا قبضے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
دوسری جانب یمن کی صدارتی لیڈر شپ کونسل کے صدر رشاد علیمی نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ باب المندب پر عسکری تبدیلیوں کے اثرات نہرِ سویز تک جا سکتے ہیں اور عالمی تجارت و توانائی کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
حوثی ترجمان نے واضح کیا ہے کہ تمام بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے جہاز رانی محفوظ رہے گی تاہم سعودی بحری جہازوں اور ان سے وابستہ آمدورفت پر پابندی برقرار رکھی جائے گی۔
