تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عالمی تجارت کی اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دیے جانے پر ایران نے سخت اور طنزیہ سفارتی جواب دیا ہے۔ بھارتی شہر حیدرآباد میں قائم ایرانی قونصل خانے کے باضابطہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے امریکا کا ایک نیا نقشہ شیئر کیا گیا جس میں امریکی ریاست کیلیفورنیا کو "اسلامی جمہوریہ ایران کا نیا علاقہ” ظاہر کیا گیا ہے۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹرتھ سوشل’ پر ایک نقشہ پوسٹ کیا جس میں آبنائے ہرمز کو دائرے میں دکھاتے ہوئے اسے "نیا امریکی علاقہ” قرار دیا گیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے آفیشل اکاؤنٹ سے بھی اس پوسٹ کو ری پوسٹ کیا گیا، جس پر ایرانی ڈپٹی فارن منسٹر کاظم غریب آبادی سمیت متعدد ایرانی حکام نے سخت ردِعمل ظاہر کیا۔
ایران کی جانب سے کیلیفورنیا کا انتخاب محض اتفاقیہ نہیں تھا۔ مائیگریشن پالیسی انسٹیٹیوٹ اور یو سی ایل اے (UCLA) کے اعداد و شمار کے مطابق کیلیفورنیا بالخصوص لاس اینجلس میں ایران سے باہر مقیم ایرانی نژاد افراد کی سب سے بڑی تعداد آباد ہے۔
اسی کثیر ایرانی آبادی اور فارسی زبان بولنے والوں کی وجہ سے اس خطے اور لوس اینجلس کو غیر رسمی طور پر "تہران جلس” (Tehrangeles) بھی کہا جاتا ہے۔ ایرانی قونصل خانے کا یہ طنز ٹرمپ کے توسیع پسندانہ بیانات کا جواب دینے اور سوشل میڈیا پر سفارتی احتساب کا ایک منفرد طریقہ قرار دیا جا رہا ہے۔

