وفاقی حکومت کی سپریم کورٹ میں عمران خان کی شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقلی کے خلاف نظرثانی درخواست دائر

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے 18 اگست 2026ء کے عبوری حکم کے خلاف عدالتِ عظمیٰ میں باقاعدہ نظرثانی درخواست دائر کر دی ہے۔

درخواست گزار چیف کمشنر اسلام آباد نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کے توسط سے یہ درخواست دائر کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا عبوری حکم اختیارِ سماعت سے تجاوز کرتا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان پریزن رولز 1978‘ کے رول 197 کے تحت کسی قیدی کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے کا ایک واضح اور مقررہ طریقہ کار موجود ہے، جسے عبوری حکم کے دوران نظرانداز کیا گیا۔ چیف کمشنر کے مطابق اس معاملے میں انہیں فریق نہیں بنایا گیا، حالانکہ قیدی کی جیل سے باہر منتقلی اور سکیورٹی کی تمام تر ذمہ داری ان کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔

نظرثانی درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا باقاعدگی سے طبی معائنہ ہوتا رہا ہے اور میڈیکل بورڈز ان کا علاج کر چکے ہیں۔ حکومت نے استدعا کی ہے کہ سپریم کورٹ کے 18 اگست کے عبوری حکم پر نظرثانی کی جائے اور اسے کالعدم قرار دیا جائے۔

دوسری جانب، بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ عظمیٰ خان نے بھی کیس میں اضافی دستاویزات جمع کرائی ہیں، جن میں سابق وزرائے اعظم کے علاج، جیل سہولیات اور عالمی رہنماؤں کے تشویشی خطوط شامل ہیں۔