حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ‘دال میں کچھ کالا ہے’: بلاول بھٹو کی ن لیگ پر شدید تنقید، عدم تعاون کا اعلان
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کی پالیسیوں اور آزاد کشمیر انتخابات کے طرزِ عمل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان "دال میں کچھ کالا ہے” جو جلد یا بدیر سامنے آ جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک تحفظات دور نہیں ہوتے، پی پی پی قانون سازی اور کوآرڈینیشن میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ تعاون نہیں کرے گی۔
اسلام آباد میں قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی اور مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے آزاد کشمیر کے متنازع انتخابات پر مسلم لیگ (ن) کو آڑے ہاتھوں لیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ انتخابات میں پی پی پی کے امیدواروں کو نشانہ بنایا گیا، کارکنوں پر فائرنگ کی گئی اور وفاقی وزرا کے لشکر نے دھاندلی کے ذریعے متنازع نتائج حاصل کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی متنازع حکومت کشمیر کے حساس مسائل حل نہیں کر سکتی، اسی لیے پی پی پی آزاد کشمیر میں اپوزیشن میں بیٹھے گی۔
نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے بلاول بھٹو نے پی پی پی کا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ جن علاقوں کو آئینی حقوق درکار ہیں ان کے فیصلے عوامی اتفاقِ رائے سے ہونے چاہئیں۔ انہوں نے زور دیا کہ وہ کسی بھی زبردستی کے فیصلے کو تسلیم نہیں کریں گے۔ انہوں نے سندھ اور پنجاب اسمبلیوں کی قراردادوں کا احترام کرنے کی بات کی اور گلگت بلتستان سمیت جنوبی پنجاب کے عوام کی امنگوں کے مطابق فیصلے پر زور دیا۔
سابق وزیراعظم عمران خان کی شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقلی کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ بیماری پر سیاست نہیں کرنا چاہتے اور ان کی خواہش ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا مناسب علاج ہو اور وہ صحت یاب ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بہتر ہوتا اگر حکومت عدالتِ عظمیٰ کے حکم سے قبل ہی خود یہ قدم اٹھا لیتی۔
بلاول بھٹو نے ملک میں انتخابی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ پارلیمانی قائمہ کمیٹیوں کا بائیکاٹ ختم کر کے قانون سازی کے عمل میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اور بھارت پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں، لہٰذا ملک کو اندرونی طور پر مضبوط اور متحد ہونا ہوگا۔

