دبئی: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر ایران کے ساتھ تمام تجارتی و کاروباری سرگرمیاں اور مالی لین دین تاحکمِ ثانی معطل کرنے کا بڑا اعلان کر دیا ہے۔
اماراتی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ایران کی سمت سے یو اے ای کی جانب 2 بیلسٹک میزائل داغے گئے، جن میں سے ایک سمندری حدود سے باہر اور دوسرا اماراتی علاقائی پانیوں میں جا گرا۔
اس واقعے کے فوراً بعد متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ کی ڈائریکٹر برائے اسٹریٹجک کمیونیکیشنز افرا الحمّلی نے بتایا کہ تجارتی و مالی تعلقات کی معطلی کا فیصلہ علاقائی و بین الاقوامی امن کو درپیش خطرات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کی سالمیت اور تحفظ یو اے ای کی اولین ترجیح ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اماراتی دفاعی حکام کے الزامات کو بائلکل بے بنیاد قرار دیتے ہوئے رد کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے اربوں ڈالر کے تجارتی اور مالی روابط قائم رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس معطلی سے نہ صرف دونوں ممالک کی باہمی تجارت اور ادائیگیوں کا نظام شدید متاثر ہوگا بلکہ خطے کی معاشی صورتحال پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

