تہران: ایران نے حکمتِ عملی کے لحاظ سے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکا کے سامنے اپنے مطالبات کی تفصیلی فہرست رکھ دی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے ‘سی این این’ کے مطابق یہ مطالبات ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مرکزی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے امریکا کے حوالے کیے ہیں۔ انہوں نے واشنگٹن سے ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کی تمام شرائط پر بلا تاخیر اور مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے، جس کی 60 روزہ میعاد حال ہی میں ختم ہوئی ہے۔
ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا کہ واشنگٹن کو خطے میں ایران کی بحری ناکہ بندی اور ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد تمام اقتصادی پابندیاں فوری ختم کرنا ہوں گی، جبکہ امریکا میں منجمد کیے گئے ایرانی اثاثوں کو بھی غیر مشروط طور پر بحال کرنا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کو عام بحری آمدورفت کے لیے کھولنے کے معاملے کو ان بنیادی شرائط سے جدا نہیں دیکھا جا سکتا۔
اس کے علاوہ، باقر قالیباف نے اندرونی صورتِ حال پر روشنی ڈالتے ہوئے ایرانی عوام سے قومی یکجہتی برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ داخلی انتشار اور سیاسی اختلافات ملک کو کمزور کرتے ہیں، جس سے بیرونی دشمنوں کو بدامنی پھیلانے کی ترغیب ملتی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں طے پانے والی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کے تحت دونوں ممالک لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں روکنے، ایران کی جانب سے ایٹمی ہتھیار نہ بنانے اور آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر متفق ہوئے تھے۔ بدلے میں امریکا نے پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی بحالی اور ایران کی تعمیرِ نو میں تعاون کی ضمانت دی تھی۔
