اسلام آباد ایم او یو: امریکا اور ایران کے درمیان 60 روز کی ڈیڈ لائن ختم

اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے طے پانے والے ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے تحت مذاکرات کی 60 روزہ ڈیڈ لائن ختم ہو گئی ہے، تاہم واشنگٹن کی جانب سے یادداشت کی خلاف ورزیوں کے باعث دونوں ممالک کے درمیان رسمی بات چیت کا آغاز نہ ہو سکا۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 17 جون کو پاکستان اور قطر کی ثالثی سے طے پانے والے 14 نکاتی معاہدے کا بنیادی مقصد پابندیوں کے خاتمے اور جوہری معاملے پر 60 دنوں کے اندر حتمی مذاکرات مکمل کرنا تھا۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کی جانب سے عہد شکنی کے باعث بات چیت آگے نہ بڑھ سکی، تاہم خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اس وقت پاکستان اور قطر کے علاوہ کوئی اور ثالث موجود نہیں۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا عمل امریکی پاسداری سے مشروط کر دیا ہے، جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ان کا ملک تمام تر معاہدے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے اصولوں اور ملکی وقار کو مدِنظر رکھ کر طے کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ اس 60 روزہ فریم ورک میں فوجی کارروائیوں کا خاتمہ، امریکی بحری ناکہ بندی کی نرمی، ایرانی اثاثوں کی بحالی اور آبنائے ہرمز کے مسائل کا حل شامل تھا۔ تاہم جولائی میں دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کے الزامات اور حملوں کے بعد حالات دوبارہ کشیدہ ہو گئے تھے۔

اگرچہ جنگ بندی کی مدت میں توسیع سے متعلق خبریں سامنے آئی تھیں، تاہم ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ان کی تردید کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ امریکا کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیوں کے بعد اب کسی توسیع کی گنجائش نہیں بچی۔ اس تمام تر تعطل کے باوجود پاکستان اور قطر فریقین کے درمیان سفارتی بات چیت کو دوبارہ ڈگر پر لانے کے لیے اپنی کوششیں مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں۔