راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے نام نہاد ’آپریشن سندور‘ پر بنائی گئی بھارتی دستاویزی فلم (ڈاکومینٹری) کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے حقائق کو مسخ کرنے کا ڈرامائی پروپیگنڈا اور بالی ووڈ طرز کی ناکام کوشش قرار دیا ہے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ معرکہ حق کو ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی بھارت جنگی میدان میں شکست کی تلخ حقیقت کو تسلیم کرنے سے مسلسل انکاری ہے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ مفصل اعلامیے کے مطابق، بھارتی مواد تخلیق کاروں نے اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کی شمولیت کے ساتھ تاریخ کو اپنی مرضی سے ڈھالنے کے لیے یہ حقائق کے منافی داستان تیار کی ہے۔
ترجمان کے مطابق، اس دستاویزی فلم میں بنیادی نوعیت کے شدید تضادات موجود ہیں؛ ایک طرف بھارت 7 مئی 2025 کو پہلگام واقعے کے ذمے داروں کو سزا دینے کا دعویٰ کرتا ہے، تو دوسری جانب خود ہی اعتراف کرتا ہے کہ مبینہ ملزمان 28 جولائی 2025 کو مارے گئے، جو بھارت کے اپنے ہی آپریشنل ریکارڈ اور دعوؤں کی نفی کرتا ہے۔
ترجمان آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ سینما کی منظر کشی، فلمی مناظر یا پروپیگنڈا ویڈیوز میدانِ جنگ میں ہونے والے حقیقی نقصانات اور تاریخ کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔ ‘معرکہ حق’ اور ‘آپریشن بنیان مرصوص’ کے دوران پاکستان نے بھارتی جارحیت کو ناکام بناتے ہوئے 8 بھارتی فوجی طیارے مار گرائے تھے جبکہ 26 اہم بھارتی عسکری اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا تھا۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان اتفاق اور امریکا کی معاونت سے ہونے والی جنگ بندی کو بھارت کی یکطرفہ فتح قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پاکستان خطے میں امن کا خواہش مند ہے، تاہم آئندہ کسی بھی فوجی مہم جوئی کا جواب پہلے سے زیادہ بھرپور، فیصلہ کن اور غیر متناسب انداز میں دیا جائے گا۔

