اسلام آباد: سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی صحت اور جیل میں ملاقاتوں سے متعلق دو صفحات پر مشتمل مفصل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متعدد سرکاری معالجین اور طبی ماہرین بانی پی ٹی آئی کا باقاعدگی سے معائنہ کرتے ہیں اور ان کی صحت بالکل ٹھیک ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ اس مقدمے کی سماعت کرے گا۔
عدالتِ عظمیٰ میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق 4 نومبر 2023 سے 10 اگست 2026 کے دوران 39 مختلف ماہر معالجین نے عمران خان کا طبی معائنہ کیا ہے اور میڈیکل افسران دن میں تین بار ان کے کھانے پینے اور صحت کی جانچ کرتے ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ماہرِ امراضِ چشم کے زیرِ علاج رہنے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ایک آنکھ بھی تقریباً نارمل ہو چکی ہے۔ مزید برآں، جیل قوانین کے تحت عمران خان اور ان کی اہلیہ بشرٰی بی بی کی اب تک 84 باقاعدہ ملاقاتیں کرائی جا چکی ہیں، جبکہ ان کے وکلاء بھی مختلف اوقات میں ان سے مل چکے ہیں۔
رپورٹ میں ہائیکورٹ کے احکامات اور سلمان اکرم راجہ کی جانب سے دی گئی اس یقین دہانی کی خلاف ورزی کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جس میں جیل احاطے میں میڈیا گفتگو نہ کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔
اڈیالہ جیل انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ جیل میں ملاقاتوں کو عدلیہ، خارجہ پالیسی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف عوامی جذبات ابھارنے کے لیے استعمال کیا گیا، لہٰذا ان تمام تفصیلا ت کے پیشِ نظر سپریم کورٹ سے اس مقدمے کو نمٹانے کی استدعا کی گئی ہے۔

