اسلام آباد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’غزہ جامع منصوبے‘ اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کرنے کے اسرائیلی اعلان پر پاکستان سمیت 8 اہم اسلامی ممالک نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے پائیدار امن کی کوششوں میں براہِ راست رکاوٹ قرار دیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے ٹرمپ کے 15 نکاتی روڈ میپ کو مسترد کرنا امن منصوبے سے واضح انحراف ہے۔ انہوں نے امریکا پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کی جانب سے اس منصوبے پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائے اور خبردار کیا کہ اسرائیلی رکاوٹ یا تاخیر سے پیدا ہونے والی کسی بھی ابتر صورتحال کی تمام تر ذمہ داری اسرائیل پر ہی عائد ہوگی۔
اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے تاکید کی کہ ٹرمپ کے اس روڈ میپ میں اسرائیلی افواج کا غزہ سے انخلا، بین الاقوامی استحکامی فورس کی تعیناتی، انتظامی امور قومی کمیٹی کے سپرد کرنا اور تباہ شدہ علاقے کی تعمیرِ نو شامل ہیں۔ انہوں نے فلسطینی ریاست کو مسترد کرنے کی ہر کوشش کو رد کرتے ہوئے اعادہ کیا کہ 1967ء کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہی خطے میں مستقل امن کی واحد ضمانت ہے جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔
واضح رہے کہ یہ شدید ردعمل اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے امریکی صدر کے ’بورڈ آف پیس‘ کے 15 نکاتی منصوبے کو مسترد کر دیا تھا۔ نیتن یاہو کا مؤقف تھا کہ اسرائیلی فوج اس وقت تک غزہ سے واپس نہیں بلائی جائے گی جب تک حماس کی عسکری صلاحیتوں کا مکمل اور حقیقی خاتمہ نہ کر دیا جائے۔

