جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کو 70 سالہ جنگ باضابطہ ختم کرنے اور مذاکرات کی پیشکش کر دی

سیول: جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے شمالی کوریا کو دہائیوں سے جاری کوریائی جنگ کے باضابطہ خاتمے اور سرحدی کشیدگی کو روکنے کے لیے ایک مربوط سیکیورٹی نظام کی تشکیل کے تحت براہِ راست مذاکرات کی پیشکش کر دی ہے۔ آزادی کی سالگرہ کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے شمالی کوریا پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ ترک کرے اور باقاعدہ امن معاہدے کی راہ ہموار کرے۔

دونوں کوریا 1950 سے 1953 تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد سے تکنیکی طور پر حالتِ جنگ میں ہیں، کیونکہ اس وقت کا خاتمہ مکمل امن معاہدے کے بجائے صرف ایک عارضی جنگ بندی پر ہوا تھا۔ صدر لی جے میونگ نے کہا کہ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد خطے میں پائیدار امن، کشیدگی میں کمی اور شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کی مزید توسیع کو روکنے کے مؤثر طریقوں پر اتفاق قائم کرنا ہے۔

یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پیر سے امریکا اور جنوبی کوریا کی 11 روزہ مشترکہ فوجی مشقیں شروع ہو رہی ہیں، جس پر پیانگ یانگ نے شدید تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ امریکی اور جنوبی کوریائی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ میں شمالی کوریائی فوجیوں کی شرکت سے حاصل ہونے والے جنگی تجربات نے جزیرہ نما کوریا میں خطرات کی نوعیت بدل دی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس موقع پر کم جونگ ان کے ساتھ اپنی ماضی کی ملاقات کی یادگار تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے، تاہم پیانگ یانگ کی جانب سے جنوبی کوریا کی پیشکش پر فی الحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔