ایران امریکا جنگ: خلیجی اتحادی ممالک صدر ٹرمپ سے مایوس اور بے چین، امریکی فوجی اڈوں کے مستقبل پر غور شروع کر دیا

واشنگٹن: امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ طویل ہونے اور سفارتی حل نکالنے میں ناکامی پر خلیج کے اہم اتحادی ممالک ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے طرزِ عمل سے شدید مایوس اور بے چین ہو گئے ہیں۔

امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے عرب، یورپی اور امریکی عہدیداروں کے حوالے سے شائع کردہ اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین کی حکومتیں ٹرمپ کی متضاد پالیسیوں سے نالاں ہیں۔

خلیجی حکام کا کہنا ہے کہ اس جنگ کی شروعات ڈونلڈ ٹرمپ نے کی جبکہ ایران اور اس کے حامی گروہوں کے میزائل و ڈرون حملوں کی صورت میں اس کی بھاری قیمت خلیجی ریاستیں ادا کر رہی ہیں۔ مسلسل کشیدگی کے باعث متعدد ممالک نے اپنی سرزمین پر امریکی فوجی تنصیبات کی میزبانی جاری رکھنے کے جواز پر بھی سوالات اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک کی بڑھتی ہوئی مایوسی کے باعث علاقے میں نئے سیکیورٹی متبادلات پر غور جاری ہے، جس کے تحت گزشتہ ہفتے سعودی عرب، ترکیے اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو یورپی سفارت کار امریکا کے لیے واضح اشارہ قرار دے رہے ہیں کہ خلیجی ممالک اب دفاع کے لیے صرف واشنگٹن پر انحصار نہیں کرنا چاہتے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے حکام نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ صدر ٹرمپ کے تمام خلیجی شرکاء کے ساتھ غیر معمولی تعلقات قائم ہیں اور واشنگٹن ان سے مسلسل رابطے میں ہے۔

اسی اثنا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے جلد آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جبکہ امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے تہران کے خلاف بے مثال سخت پابندیوں کا عندیہ دیا ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کے ان غیر معمولی بیانات اور اقدامات سے عالمی توانائی کی ترسیل کے اس اہم ترین سمندری راستے پر کشیدگی میں مزید خطرناک اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔