راولپنڈی: جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں موسلادھار بارش کے بعد جل تھل ایک ہو گیا، جس سے متعدد نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے اور نالہ لئی میں طغیانی کے باعث خطرے کے سائرن بجا دیے گئے۔
شدید بارش کے نتیجے میں نالہ لئی میں پانی کی سطح کٹاریاں کے مقام پر 20 فٹ اور گوالمنڈی پل پر 17 فٹ تک پہنچ گئی۔ نالہ لئی کے اطراف بسنے والے رہائشیوں کو محتاط رہنے اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی۔ چکلالہ کنٹونمنٹ، ممتاز ٹاؤن، بنارس ٹاؤن، پیر ودھائی، صادق آباد، آریہ محلہ اور گوالمنڈی کے گھروں میں چند فٹ تک پانی داخل ہونے سے شہریوں کا قیمتی سامان متاثر ہوا۔
فلڈ کنٹرول روم کے مطابق جڑواں شہروں میں اوسطاً 95 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی:
- اسلام آباد: گولڑہ کے مقام پر سب سے زیادہ 144 ملی میٹر اور بوکرہ میں 132 ملی میٹر بارش ہوئی۔
- راولپنڈی: پیر ودھائی میں 105، گوالمنڈی میں 77، کچہری میں 60 اور شمس آباد میں 41 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
راولپنڈی میں واسا نے رین ایمرجنسی نافذ کر دی، تاہم بعد میں بارش کا زور ٹوٹنے پر نالہ لئی میں پانی کا بہاؤ تیزی سے کم ہونا شروع ہو گیا۔ دوسری جانب فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا، کالاباغ، چشمہ، تونسہ اور گڈو بیراج کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔
محکمہ موسمیات نے 21 اگست تک اسلام آباد، بالائی و وسطی پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور کشمیر کے مختلف علاقوں میں تیز بارشوں اور نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا الرٹ بھی جاری کر دیا ہے۔

