گورننس کی بہتری کے لیے نئے انتظامی یونٹس اور مضبوط بلدیاتی نظام ضروری ہے: ایس ڈی پی آئی

اسلام آباد: سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (SDPI) کے زیرِ اہتمام قومی سطح کے ایک اہم مباحثے کا انعقاد کیا گیا، جس میں ’کیا ملک میں نئے انتظامی یونٹ بننے چاہئیں؟‘ کے موضوع پر ملک کے معاشی، سیاسی اور انتظامی ماہرین نے سیر حاصل گفتگو کی۔

مباحثے کے شرکاء نے ملک میں بہتر گورننس اور عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کی پرزور حمایت کی اور زور دیا کہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیے بغیر حقیقی ترقی ممکن نہیں۔

ایس ڈی پی آئی کی نشست کے دوران سامنے آنے والے اہم نکات درج ذیل ہیں:

  • براہِ راست عوامی فائدہ: نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کی تشکیل سے عام آدمی کو اپنے بنیادی مسائل کے حل کے لیے دور دراز دارالحکومتوں کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے اور گورننس کا معیار بہتر ہوگا۔
  • اختیارات کی نچلی سطح پر تقسیم: ملک کی جامع اور متوازن ترقی کے لیے ضروری ہے کہ مرکز اور صوبائی سطح کے اختیارات اور وسائل کی تقسیم نچلی سطح تک یقینی بنائی جائے۔
  • مباشر احتساب: اختیارات کی نچلی سطح پر منتقل ہونے سے حکومت اور انتظامیہ کا احتساب زیادہ مؤثر اور شفاف بنایا جا سکتا ہے۔
  • مظبوط بلدیاتی نظام: شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ نئے یونٹس کے ساتھ ساتھ ملک میں ایک بااختیار اور مضبوط بلدیاتی نظام کا ہونا بنیادی عوامی مسائل کے حل کے لیے انتہائی لازمی ہے۔