ایران کا العدید ایئر بیس پر حملہ کرنے والے 3 لاپتا ایرانی پائلٹس قطری تحویل میں ہونے کا دعویٰ

تہران: ایران نے پہلی مرتبہ عوامی سطح پر باضابطہ تصدیق کی ہے کہ رواں سال 2 مارچ 2026 کو قطر میں واقع امریکی فوجی اڈے پر حملے کے بعد لاپتا ہونے والے ایرانی فضائیہ کے 3 پائلٹس قطری افواج کی تحویل میں موجود ہیں۔

ایران کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف میں لاپتا افراد کی تلاش کی کمیٹی کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد باقرزادہ نے انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (ICRC) کی صدر مرجانا اسپولیارک ایگر کے نام ایک خط لکھا ہے، جس میں لاپتا پائلٹوں کی تحفظ اور رہائی کے لیے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق شیراز کے شہید دوران ایئر بیس سے روانہ ہونے والے دو ایس یو-24 (Su-24) جنگی طیاروں نے قطر میں امریکی زیرِ استعمال العدید ایئر بیس کو نشانہ بنایا۔ واپسی کے دوران خلیج کے اوپر دشمن کے فضائی دفاعی نظام نے دونوں طیاروں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد عملے کو ایجیکٹ کرنا پڑا۔

مجموعی طور پر 4 پائلٹوں میں سے ایک پائلٹ مجید کاظمی شہید ہو گئے جن کی باقیات ایران منتقل کر دی گئیں، جبکہ باقی 3 پائلٹس جواد صالحی، عبدالحمید دشتیان اور عمران بہرویشیان زندہ حالت میں قطری فورسز کی تحویل میں ہیں۔

بریگیڈیئر جنرل محمد باقرزادہ نے قطر پر جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ 6 ماہ گزرنے کے باوجود قطری حکام نے پائلٹوں کو اہلخانہ یا ایرانی سفارتکاروں سے رابطے اور ملاقات کی اجازت نہیں دی، جو جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے ریڈ کراس سے درخواست کی کہ وہ قطری تحویل میں موجود پائلٹس سے فوری ملاقات کر کے ان کی صحت کی معلومات حاصل کرے اور ان کی رہائی ممکن بنائے۔

واضح رہے کہ 2 مارچ کو قطری وزارتِ دفاع نے دو ایرانی ایس یو-24 طیارے اور متعدد بیلسٹک میزائل مار گرانے کی تصدیق کی تھی، تاہم قطر نے پائلٹوں کی موجودگی یا تحویل سے متعلق ایرانی دعوے پر فی الحال کوئی باضابطہ جواب جاری نہیں کیا ہے۔