افغان طالبان رجیم کے 5 سال مکمل: افغانستان میں خواتین کے حقوق، تعلیم اور آزاد صحافت پر شدید ترین بحران
کابل: افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا اور طالبان کے اقتدار میں آنے کو 5 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ عالمی میڈیا اور اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق اس عرصے کے دوران افغانستان میں انسانی حقوق، تعلیم اور صحافت کی صورتحال شدید ترین زوال اور بحران کا شکار ہو چکی ہے۔
امریکی میڈیا اور اقوام متحدہ کے سائنسی و ثقافتی ادارے (UNESCO) کے مطابق طالبان حکومت کے 100 سے زائد امتناعی احکامات کے باعث ثانوی اسکولوں اور جامعات سے محروم تقریباً 24 لاکھ لڑکیاں اسکولوں سے باہر ہیں۔ شدید انسانی بحران کی وجہ سے افغانستان میں ہر 10 میں سے 1 بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کی خواتین سے متعلق خصوصی نمائندہ سوزن فرگوسن نے عالمی برادری سے امداد کا مطالبہ کرتے ہوئے بتایا کہ 1.7 ارب ڈالر کی انسانی امداد کی اپیل میں سے صرف 25 فیصد رقم موصول ہو سکی ہے۔ فنڈز کی شدید کمی کے باعث خواتین کی نصف تنظمیوں کو اپنی سرگرمیاں بند کرنے کا خدشہ ہے۔
ہیومن رائٹس واچ اور عالمی جریدے ماڈرن ڈپلومیسی کی رپورٹس کے مطابق طالبان رجیم کے سخت اقدامات کے باعث تقریباً 80 فیصد خواتین صحافیوں کو جبری طور پر ملازمتیں چھوڑنا پڑیں۔ اقوام متحدہ کے افغان مشن نے 336 صحافیوں کی حقوق تلفی اور 256 بلاجواز گرفتاریوں کا انکشاف کیا۔
ماہرین کے مطابق آزاد میڈیا اور تنقیدی آوازوں کو دبانے کے لیے میڈیا اداروں کو بند کر کے سوشل میڈیا پر بوگس اکاؤنٹس کے ذریعے منظم پروپیگنڈے کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

