ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انتہائی متنازع اور اہم بیان میں کہا ہے کہ وہ بہت جلد عالمی نقطہ نظر سے انتہائی حساس آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ (US Territory) قرار دینے کا باقاعدہ اعلان کریں گے۔

خبر رساں ادارے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ، ایران پر شدید ترین معاشی دباؤ ڈالنے کی حتمی تیاری کر رہا ہے تاکہ تہران کو جاری جنگ کے خاتمے اور واشنگٹن کی شرائط پر مجبور کیا جا سکے۔

سیاسی و دفاعی ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے اس بیان سے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اور سیکیورٹی بحران شدید تر ہونے کا خدشہ ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی وہ اہم ترین ترین بحری گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی مارکیٹ میں برآمد ہونے والے کل خام تیل (Crude Oil) کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے، لہٰذا اس گزرگاہ کی حیثیت سے متعلق کسی بھی غیر معمولی قدم کے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

واشنگٹن اور تہران کے درمیان گزشتہ 6 ماہ سے جاری جنگ اور کشیدگی کو ختم کرنے کے مذاکرات میں تعطل کے دوران امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا بیان بھی سامنے آیا ہے۔

وزیرِ خزانہ کے مطابق امریکہ آئندہ ہفتے کے آغاز میں ہی ایران پر ایسی بے مثال اور سخت ترین معاشی پابندیاں اور اقدامات لاگو کرنے جا رہا ہے جو اس سے قبل کبھی نہیں دیکھی گئیں۔ امریکہ کا مقصد ایران کی اقتصادی شریانوں کو مفلوج کر کے اسے سیاسی و دفاعی طور پر پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنا ہے۔