اسلام آباد: خود انحصاری اور ڈیجیٹل شناخت کو زیادہ آسان بنانے کی جانب اہم قدم اٹھاتے ہوئے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے محفوظ کیو آر (QR) کوڈ پر مبنی نیا، چِپ کے بغیر قومی شناختی کارڈ متعارف کرا دیا ہے۔
نادرا کے اعلامیے کے مطابق پولی کاربونیٹ مٹیریل پر تیار کردہ یہ نیا کارڈ نیشنل سیکیورٹی پرنٹنگ کمپنی (NSPC) کراچی نے پاکستان میں ہی تیار کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بیرونِ ملک سے حاصل کی جانے والی مائیکرو چِپ پر انحصار ختم کرنا اور ڈیجیٹل تصدیق کو عام شہری و اداروں کے لیے آسان بنانا ہے۔
نئے شناختی کارڈ کی نمایاں خصوصیات:
- آسان تصدیق: مائیکرو چپ کے برعکس، نئے کارڈ کے کیو آر کوڈ کی تصدیق عام اسمارٹ فون اور ‘پاک آئی ڈی’ (PakID) موبائل ایپلیکیشن سے ممکن ہو سکے گی۔
- مکمل معلومات: کیو آر کوڈ میں کارڈ ہولڈر کی تصاویراور متعلقہ ڈیٹا موجود ہوگا، جس سے بینکوں، ٹیلی کام کمپنیوں، پولیس اور دیگر اداروں میں اندراج کے وقت غلطیوں کا امکان ختم ہو جائے گا۔
- مخصوص نشانات اور زبان: کارڈ پر خاندان نمبر کے علاوہ بزرگ شہریوں، معذور افراد، اعضا عطیہ کرنے والوں اور ریاستِ آزاد جموں و کشمیر کے شہریوں کے لیے مخصوص نشانات شامل ہوں گے۔ نام اور پتہ اردو و انگریزی دونوں زبانوں میں درج ہوگا۔
مرحلہ وار اجراء کا پلان:
- پہلا مرحلہ (14 اگست 2026): کیو آر کوڈ والا نیا پولی کاربونیٹ کارڈ موجودہ بغیر چپ والے (ٹیسلن مٹیریل) سادہ قومی شناختی کارڈ کی جگہ جاری کیا جا رہا ہے۔
- دوسرا مرحلہ (جنوری 2027): تمام دیگر کارڈز بشمول نائیکوپ (NICOP) اور جووینائل کارڈز (Juvenile Cards) کے لیے کیو آر کوڈ والے نئے کارڈز کا اجراء ہوگا۔
- آخری مرحلہ: پاکستان اوریجن کارڈ (POC) کو بھی چپ کے بغیر اسی نئے نظام پر منتقل کر دیا جائے گا۔
نادرا نے واضح کیا ہے کہ شہریوں کے پاس پہلے سے موجود تمام اقسام کے قومی شناختی کارڈز اپنی مقررہ مدتِ میعاد (Expiry Date) تک بدستور قابلِ استعمال اور کارآمد رہیں گے۔

