ملک میں مزید بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ: این ای او سی اور محکمہ موسمیات کا الرٹ جاری

اسلام آباد: نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (NEOC) اور محکمہ موسمیات (PMD) نے 13 سے 15 اگست 2026 کے دوران ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کے باعث ممکنہ سیلاب، ندی نالوں میں طغیانی اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ سے متعلق شدید الرٹ جاری کر دیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق طاقتور مون سون اور مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ ملک کے بالائی حصوں میں داخل ہو چکا ہے، جس کے زیرِ اثر خیبر پختونخوا، پنجاب، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور بلوچستان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارانِ رحمت متوقع ہے۔

این ای او سی اور محکمہ موسمیات کے مطابق موسلا دھار بارشوں کی وجہ سے اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، مردان، صوابی، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ اور لاہور کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ (شہری سیلاب) کا شدید خدشہ ہے۔

علاوہ ازیں، خیبر پختونخوا کے اضلاع سوات، چترال، دیر، شانگلہ، کوہستان، ایبٹ آباد اور مانسہرہ کے ندی نالوں؛ جبکہ بلوچستان کے اضلاع موسیٰ خیل، بارکھان، خضدار اور ڈیرہ بگٹی اور پنجاب میں مری، ڈی جی خان اور راجن پور کے پہاڑی نالوں میں طغیانی آنے کا امکان ہے۔

این ای او سی کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ میں تربیلا، کالا باغ، چشمہ، گڈو اور سکھر کے مقام پر، نیز دریائے راوی میں بلوکی اور چناب میں مرالہ کے مقام پر کم درجے کا سیلابی بہاؤ متوقع ہے۔

دوسری جانب بالائی خیبر پختونخوا، مری، گلیات، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان (دیامر، ہنزہ، اسکردو، استور وغیرہ) کی رابطہ سڑکوں پر لینڈ سلائیڈنگ کا شدید خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات اور ایمرجنسی اداروں نے تمام سیاحوں اور مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بارشوں کے اس سلسلے کے دوران سوات، مری، گلیات، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کریں اور سفر کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔