بلوچستان کے علاقے سوراب میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن: ‘فتنہ الہندوستان’ کے 18 دہشت گرد ہلاک

راولپنڈی: بلوچستان کے ضلع سوراب میں بارودی مواد سے بھری گاڑی (VBIED) تیار کرنے کے دوران قبل از وقت دھماکے اور اس کے بعد سیکیورٹی فورسز کے ردِعمل و کلیئرنس آپریشن میں "فتنہ الہندوستان” سے وابستہ 18 دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 12 اگست 2026 کی صبح دہشت گرد حملے کے لیے بارود سے بھری گاڑی تیار کر رہے تھے کہ اچانک دھماکا ہو گیا۔ اس سے قبل از وقت دھماکے کے نتیجے میں موقع پر موجود 8 دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ دہشت گردوں کے ذخیرہ کردہ دیگر بارودی مواد میں ہونے والے ثانوی دھماکوں کی زد میں آ کر قریبی علاقے کے 3 عام شہری بھی شہید ہو گئے۔

واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز اور بلوچستان پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مشترکہ کلیئرنس آپریشن کا آغاز کیا۔ فرار ہونے والے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگاتے ہوئے فورسز نے مؤثر اور کارگر کارروائی کی، جس کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں مزید 10 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔ اس کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز کے 2 بہادر جوان بھی زخمی ہوئے، جبکہ علاقے کو باقی ماندہ شرپسندوں سے پاک کرنے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔

ترجمان آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کی وفاقی ایپکس کمیٹی کے منظور شدہ وژن ‘عزمِ استحکام’ کے تحت غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بلا امتیاز آپریشن جاری رہے گا۔

صدرِ مملکت، وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیرِ داخلہ نے کامیاب اور بروقت کارروائی پر سیکیورٹی فورسز اور بلوچستان پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے شہریوں کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "فتنہ الہندوستان” کے دہشت گرد بلوچستان کے امن اور عوام کے دشمن ہیں، اور قوم ان کے مکمل خاتمے تک افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔