پانی کی ایک ایک بوند ہماری ریڈ لائن ہے: یادگارِ فتح کی تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف کا بھارت کو سخت پیغام
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ اور غیر قانونی معطلی کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا اور پاکستان کے آبی وسائل کی ایک ایک بوند ہماری "ریڈ لائن” ہے، اگر بھارت راہِ راست پر نہ آیا تو اسے براہِ راست اور منھ توڑ جواب دیا جائے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ‘معرکہِ حق’ کی یادگار "یادگارِ فتح” کی پروقار افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزرا اور اعلیٰ عسکری و سول قیادت بھی موجود تھی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا داعی ہے، تاہم ہماری امن کی خواہش کو ہرگز کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مئی 2025 کے معرکے میں ملنے والی عبرتناک شکست کے بعد بھارت نے غیر قانونی طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ بھی کسی نے پاکستان کی سلامتی یا خودمختاری کو چیلنج کیا تو اسے ماضی سے بھی زیادہ شدت سے جواب دیا جائے گا۔
وزیراعظم نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اب خطے میں استحکام کی علامت بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان تنازع میں ذمہ دار ثالث کا کردار ادا کیا، جبکہ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ طے پانے والا "مکہ سہ فریقی دفاعی معاہدہ” عالمِ اسلام اور دنیا کے لیے امن کی بشارت ہے۔
شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خصوصی شکریہ ادا کیا جن کے بروقت اقدام اور ثالثی سے پاک بھارت جنگ بندی ممکن ہوئی اور لاکھوں قیمتی جانیں بچیں۔ انہوں نے افغان حکومت کو بھی مخلصانہ مشورہ دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکیں۔
وزیراعظم نے چین کی ہمالیہ سے بلند دوستی کو سراہا اور فلسطین و کشمیر کے مظلوم عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے قوم سے یومِ آزادی کی مناسبت سے باہمی اتحاد، محنت اور یکجہتی کا عہد کرنے کی اپیل کی۔

