ایران کے ساتھ جنگ سے تنگ امریکی اہلکار شدید ذہنی دباؤ کا شکار، خودکشی کی کوششیں

واشنگٹن: ایران کے خلاف طویل فوجی کارروائیوں اور مسلسل ڈیوٹی کے باعث امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن (USS Abraham Lincoln) پر تعینات فوجی اہلکاروں میں شدید ذہنی دباؤ، خوراک و پانی کی قلت اور خودکشی کی کوششوں کا انکشاف ہوا ہے، جس پر امریکی کانگریس کے سینیٹرز نے پینٹاگون سے فوری تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔

امریکی میڈیا اور غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 250 دن سے زائد عرصے سے سمندر میں تعینات اس امریکی بیڑے پر خوراک کی کمی، پینے کے پانی کی آلودگی، خراب پلمبنگ اور بنیادی سہولیات کی نایابی جیسے سنگین مسائل سامنے آئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک امریکی اہلکار کی اہلیہ نے انکشاف کیا ہے کہ طویل تعیناتی اور مسلسل آپریشنل دباؤ کے باعث ان کے شوہر نے سمندر میں چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش کی، تاہم عملے کے دیگر ارکان نے انہیں اور کئی دیگر اہلکاروں کو ایسا کرنے سے روکا۔ جہاز پر موجود تقریباً 5 ہزار سیکیورٹی اہلکاروں کے شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہونے پر ان کے اہل خانہ نے بھی بحری قیادت سے ملاقاتیں کر کے شدید تحفظات ظاہر کیے اور پیاروں کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا۔

اس غیر معمولی صورتحال پر ڈیموکریٹ سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کو خط لکھ کر ‘یو ایس ایس ابراہم لنکن’ پر موجود فوجیوں کے حالاتِ زندگی اور ذہنی صحت کی تفصیلات فوری فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سینیٹر بلومینتھل کے مطابق یہ جہاز مسلسل 200 دنوں سے زائد عرصے سے کسی بندرگاہ پر لنگرانداز نہیں ہوا جو مسلسل سمندر میں رہنے کا ایک نیا ریکارڈ ہے، لہٰذا اہلکاروں کی فلاح و بہبود اور بنیادی ضروریات کی فراہمی پر فوری توجہ دی جائے۔

واضح رہے کہ یو ایس ایس ابراہم لنکن نے 21 نومبر 2025 کو سان ڈیاگو سے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا اور فروری 2026 میں ایران کے خلاف شروع ہونے والے معرکے سے قبل ہی اسے مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کر دیا گیا تھا۔ اگرچہ امریکی بحریہ نے سرکاری سطح پر ذہنی صحت میں بگاڑ یا خودکشی کے واقعات کی شدت کی تردید کی ہے، تاہم دفاعی ماہرین کے مطابق کسی اہم طیارہ بردار جہاز پر ایسی شکایات کا سامنے آنا امریکی بحری انتظامیہ اور اس کی طویل جنگی پالیسیوں کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔