امریکی فوج کی کردستان سے مکمل انخلا کی تیاری، تاریخ بھی سامنے آگئی

بغداد: عراقی حکومت نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ امریکی فوج اور اس کی زیرِ قیادت بین الاقوامی فوجی اتحاد کے دستے 30 ستمبر تک عراقی کردستان سے اپنا مکمل انخلا یقینی بنائیں گے اور تمام فوجی اڈوں کا کنٹرول عراقی سیکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا جائے گا۔

عراقی حکومت کے ترجمان حیدر العبودی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ بغداد اور واشنگٹن کے درمیان 2024 میں طے پانے والے معاہدے کے تحت انخلا کا عمل انتہائی منظم انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔ عراقی اور امریکی حکام کے درمیان رابطہ ٹیمیں باقاعدگی سے ملاقاتیں کر رہی ہیں اور مختلف مقامات و فوجی سازوسامان کا ریکارڈ تیار کر کے انہیں عراقی اداروں کے سپرد کرنے کا عمل جاری ہے۔

کردستان ریجن کے مقامی حکام اور خبر رساں اداروں کے مطابق صوبہ اربیل میں امریکی فوجی قافلوں اور جنگی سامان کی منتقلی کی غیر معمولی سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں۔ تاہم عراقی حکام نے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر انخلا کرنے والے اہلکاروں کی حتمی تعداد اور منتقل کیے جانے والے اڈوں کی تفصیلات فی الحال ظاہر نہیں کی ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی زیرِ قیادت بین الاقوامی اتحاد 2014 سے عراق اور عراقی کردستان میں داعش کے خلاف جنگ اور شام میں آپریشنز کے لیے ان مقامات کو استعمال کرتا رہا ہے۔ 2017 میں داعش کی شکست کے بعد سے بغداد اس مشن کو صرف مشاورتی اور انٹیلی جنس حد تک محدود کرنے پر زور دیتا رہا ہے۔ عراقی حکومت کے مطابق فوجی انخلا کے باوجود امریکا کے ساتھ دوطرفہ سیکیورٹی، فضائی دفاع، انٹیلی جنس اور انسدادِ دہشت گردی کی حد تک تعاون جاری رہے گا۔