پاکستان کے ساتھ سیکیورٹی و دیگر شعبوں میں تعلقات گہرے کرنے کو تیار ہیں: ایرانی صدر مسعود پزشکیان

تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ تہران اسلام آباد کے ساتھ سیکیورٹی، سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی شعبوں میں تعلقات اور تعاون کو مزید گہرا و مستحکم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان مضبوط اور قریبی تعلقات علاقائی سیکیورٹی اور استحکام میں نمایاں اضافہ کا سبب بنیں گے۔

یہ بات ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے دفتر میں پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، بارڈر سیکیورٹی، باہمی مفادات اور مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

صدر پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی حکام کی جانب سے دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں دلچسپی کی تعریف کی اور کہا کہ دوطرفہ تعاون سے دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات تحفظ حاصل کریں گے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی، جن کا تہران کے ہوائی اڈے پر ان کے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی نے استقبال کیا تھا، نے اپنے دورے کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی، وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی اور وزیرِ پیٹرولیم محسن پاک نژاد سے بھی جداگانہ ملاقاتیں کیں۔

ملاقاتوں میں محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات ناقابلِ تنسیخ اور مضبوط ہیں۔ یہ دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور ممکنہ امن معاہدے کے لیے فعال سفارتی و ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق پاکستان نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور اسپیکر باقر قالیباف کو مذاکرات کی پیش رفت کے سلسلے میں اسلام آباد کے دورے کی باضابطہ دعوت بھی دی ہے۔