اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالات ایک بار پھر سازگار ہو رہے ہیں اور دونوں ممالک کسی نہ کسی قسم کے امن معاہدے یا ڈیل کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں۔
امریکی مالیاتی جریدے ‘بلومبرگ’ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں خواجہ آصف نے بتایا کہ گزشتہ دو سے تین دنوں کے دوران ملنے والے سفارتی اشارے ظاہر کرتے ہیں کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیش رفت ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار امن پورے خطے کے مفاد میں ہوگا اور اس معاہدے سے عالمی توانائی کی منڈیوں کو لپیٹ میں لینے والی شدید کشیدگی اور معاشی دباؤ میں کمی آنے کی توقع ہے۔
وزیر دفاع کے اس بیان کے ساتھ ہی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ایک اہم دورے پر تہران پہنچ چکے ہیں جہاں ان کی ایرانی حکام سے امریکا کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی اور اہم سمندری گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ کے معاملے پر بات چیت متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق، پاکستان اور قطر اس تنازع کے حل کے لیے پس پردہ سفارتی کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ ایران اور عمان کے درمیان بھی بعض بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق مذاکرات اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث مشرق وسطیٰ سے چین تک تیل لے جانے والے سپر ٹینکرز کا یومیہ کرایہ 5 لاکھ ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو عام دنوں سے دگنا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ایران کے ساتھ محدود پیمانے پر بات چیت جاری ہے، تاہم خطے میں بحیرہ احمر اور خلیج عمان کے اطراف تجارتی بحری جہازوں پر حملوں اور کشیدگی کا سلسلہ بھی فی الحال برقرار ہے۔

