مکہ معاہدہ انتہائی خطرناک اور پریشان کن ہے: پاکستان، سعودیہ اور ترکیے کے دفاعی اتحاد پر اسرائیل کا شدید ردِعمل
تل ابیب: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان 7 اگست 2026 کو طے پانے والے تاریخی ‘مکہ دفاعی معاہدے’ پر اسرائیلی حکومت شدید تشویش اور پریشانی میں مبتلا ہو گئی ہے اور اسے اسرائیل کے لیے سنگین نتائج کا باعث قرار دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر برائے امورِ تارکینِ وطن امیخائی چکلی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی تعاون ایک "انتہائی خطرناک اور پریشان کن پیش رفت” ہے۔
انہوں نے اشارہ کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے ہی باہمی دفاعی معاہدہ موجود تھا، تاہم اب اس میں ترکیے کی شمولیت نے صورتحال کو اسرائیل کے لیے مزید حساس بنا دیا ہے کیونکہ ترکیے اور اسرائیل کے درمیان شدید نوعیت کے براہِ راست اختلافات موجود ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیلی حکام ترکیے کے بڑھتے ہوئے علاقائی اثر و رسوخ، خصوصاً شام میں اس کے کردار سے پہلے ہی نالاں تھے، جبکہ اس نئے معاہدے کے تحت خطے کی تین بڑی طاقتیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو گئی ہیں:
- پاکستان: ایک تسلیم شدہ ایٹمی طاقت اور منظم، بڑی فوج کا حامل ملک۔
- ترکیے: نیٹو (NATO) کا اہم رکن، جدید دفاعی صنعت اور ڈرون ٹیکنالوجی کا مرکز۔
- سعودی عرب: خطے کی سب سے بڑی معاشی اور توانائی کی طاقت۔
معاہدے کی رو سے کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس کے باعث اسرائیل کو خدشہ ہے کہ یہ اتحاد مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن تبدیل کر دے گا۔

